ممبئی:یکم اکتوبر (ایس او نیوز؍راست)آئی۔ آر۔ایف سے تعلق رکھنے، غیر مسلم نو جوانوں کو مذہب تبدیل کراکے داعش میں بھرتی کرانے سمیت کئی سنگین الزامات کے تحت گذشتہ کئی سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عرشی قریشی کی جمعیۃ علما مہا راشٹر کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت ممبئی سے باعزت رہائی عمل میں آئی ہے۔ اس بات کی اطلاع جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی۔
مزید تفصیلات دیتے ہو ئے انہوں نے بتایا کہ ا ٓئی آر ایف کے پی۔ آر۔ او۔ اور ڈاکٹر ذاکر نائک کے دست راست عرشی قریشی کو پہلے کرائم برانچ ممبئی اور پھر این آئی اے کی جا نب سے غیر مسلم نو جوانوں کو مسلمان بنانے،ان کی ذہن سازی کرنے،،ممنوعہ تنظیم آئی ایس آئی ایس میں بھرتی کروانے،ملک کے خلاف غیر قانونی طریقے سے سازش کرنے،اور یواے پی اے سمیت جیسے سخت ترین قوانین اوردیگر سنگین الزامات کے تحت 2016میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے کے اہلکاروں نے ہزاروں صفحات پر مشتمل چارج شیٹ دائر کی تھی،جب کہ کل 57 سرکاری گواہوں کی گواہی عمل میں آئی تھی،5 سالوں کی مستقل جدو جہد،اہم قانونی نکا ت،اور کیس سے متعلق قوانین کی بار یکیوں کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
بالآ خر آج 30 ستمبر 2022 کو خصوصی عدالت کے جج جناب اے ایم پاٹل نے عرشی قریشی کو باعزت رہا کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ جمعیۃ علما مہا راشٹر کی جا نب سے عدالت میں اس کیس کی پیروی سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان اور ایڈوکیٹ عشرت علی خان کر رہے تھے۔ غور طلب ہے کہ ذاکر نائک کے آئی آر ایف پر پابندی عائد کرنے کیلئے اس مقدمہ کو بنیاد اور ذریعہ بنایا گیا تھا،اس فیصلے کے بعد آئی آر ایف سے پا بندی ہٹنے کی راہیں ہموار ہوں گی،امید کہ جلد ہی آئی آر ایف کی پا بندی کے بارے میں جاری قانونی چارہ جوئی میں یہ فیصلہ سنگ میل ثابت ہوگا۔ انصاف پسند حلقوں کی جا نب سے اس فیصلہ کا خیر مقدم،موجودہ حالات میں انصاف کے زندہ ہونے اور ہندوستانی عدلیہ میں تقویت دینے والا قرار دیا جا رہے۔
جمعیۃ علما مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے عرشی قریشی کی رہائی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے ہمارا یہ موقف تھا کہ عرشی قریشی بے قصور ہے اسے سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔بالآ خر عدالت کے فیصلہ سے سچائی سب کے سامنے آگئی،اس رہائی کے نتیجہ میں ملزم اور اسکے اہل خانہ کو بڑی راحت حاصل ہوئی ہے۔
اس موقع پر جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی نے جمعیۃ علما مہاراشٹر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عدالتی فیصلوں سے قانونی لڑائی لڑنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ہم اپنے وکلا کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے عدالت میں بھر پور جد وجہد کرتے ہوئے ملزم کو رہائی دلانے میں ہر ممکن کوشش کی۔